پنجاب کے ضلع پاکپتن (Pakpattan) میں جمعرات، 5 نومبر 2026 کی شام ایک دل دہلا دینے والا سڑک حادثہ پیش آیا۔ دیپالپور روڈ (Depalpur Road) پر 17 ایس پی کے قریب ملتان سے جانے والی ایک مسافر بس آلوؤں سے لدے ٹریلر سے ٹکرا گئی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ بس الٹ گئی اور کئی مسافر اس میں پھنس گئے۔ اس خوفناک حادثے میں 11 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہو گئے۔

حادثے کے بعد ریسکیو 1122 کی ٹیمیں امدادی کارروائی میں مصروف۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
ریسکیو حکام کے مطابق مسافر بس ملتان سے جا رہی تھی کہ دیپالپور روڈ پر 17 ایس پی کے قریب سامنے سے آنے والے آلوؤں سے لدے ٹریلر سے اس کی ٹکر ہو گئی۔ ٹکر اتنی زوردار تھی کہ بس بے قابو ہو کر الٹ گئی اور بری طرح تباہ ہو گئی۔ حادثے کے بعد بس میں پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے کے لیے فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

حادثے کے بعد تباہ شدہ بس اور ٹریلر — دیپالپور روڈ، پاکپتن۔
جاں بحق اور زخمی افراد
- 11 افراد جاں بحق ہوئے، 33 زخمی ہوئے۔
- جاں بحق ہونے والوں میں پیرا فورس (Para Force) اور پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس (Punjab Highway Patrol Police) کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
- ریسکیو 1122 کے ترجمان عمیر اقبال کے مطابق، جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کی شناخت علی حسنین (Ali Hasnain) (پٹرولنگ پولیس) اور زاہد امام (Zahid Imam) (پیرا فورس) کے طور پر ہوئی ہے۔
- جاں بحق ہونے والوں میں گاؤں ٹبہ نین وال (پوسٹ آفس کھڈیاں خاص، تحصیل و ضلع قصور) کے محمد اکرام (Muhammad Ikram) بھی شامل ہیں۔ وہ وکالت (لا) کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ وہ پاکپتن شہر اپنا آخری پرچہ دینے گئے تھے اور پرچہ دے کر واپس اپنے گاؤں آ رہے تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ جمعہ، 6 نومبر کو صبح 10 بجے اپنے آبائی گاؤں ٹبہ نین وال میں ادا کی جائے گی۔
- زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال پاکپتن (DHQ Hospital Pakpattan) منتقل کیا گیا۔
ریسکیو آپریشن اور اسپتال میں ایمرجنسی
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 (Rescue 1122) کی ٹیمیں اور ضلعی انتظامیہ موقع پر پہنچ گئیں۔ ڈپٹی کمشنر آصف رضا اور ڈی پی او جاوید اقبال بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی۔ ضلعی انتظامیہ نے ڈسٹرکٹ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد مل سکے۔ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد دیپالپور روڈ کو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا اظہارِ افسوس
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکپتن کے قریب پیش آنے والے اس المناک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو زخمی مسافروں کے بہترین علاج کی ہدایت کی اور ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ وزیراعلیٰ نے حادثے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ پولیس نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

رات کے وقت سڑک پر احتیاط بہت ضروری ہے۔
سڑک حادثات سے بچاؤ — چند احتیاطی تدابیر
- تیز رفتاری سے گریز کریں، خاص طور پر رات کے وقت اور سنگل روڈ پر۔
- اوورٹیک کرتے وقت سامنے سے آنے والی ٹریفک کا خیال رکھیں۔
- گاڑی چلانے سے پہلے بریک، لائٹس اور ٹائر چیک کریں۔
- تھکاوٹ کی حالت میں گاڑی نہ چلائیں، آرام کر کے سفر جاری رکھیں۔
- سیٹ بیلٹ ضرور باندھیں۔
Pakpattan Bus Accident — Summary in English
On Thursday evening, 5 November 2026, a passenger bus travelling from Multan collided with a potato-loaded trailer on Depalpur Road near 17-SP in Pakpattan district, Punjab. The bus overturned after the collision. 11 people were killed and 33 injured. The deceased include personnel of the Para Force and the Punjab Highway Patrol Police. The deceased officials were identified as Ali Hasnain (Patrolling Police) and Zahid Imam (Para Force), according to Rescue 1122 spokesperson Umair Iqbal. The injured were shifted to DHQ Hospital Pakpattan, where an emergency was declared. Deputy Commissioner Asif Raza and DPO Javed Iqbal reached the site. Chief Minister Punjab Maryam Nawaz expressed condolences, directed the best medical treatment for the injured, and sought a report on the accident. The deceased also included Muhammad Ikram of Tibba Nainwal village (Post Office Khudian Khas, Tehsil and District Kasur), a law student who had gone to Pakpattan city for his final law examination paper and was returning home after taking it. His funeral prayer will be offered on Friday, 6 November at 10:00 AM in his ancestral village of Tibba Nainwal.
اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا فرمائے۔ آمین۔
خبر کی تفصیل معروف نیوز ذرائع (Aaj TV, ARY News, Dunya News, 24 News, UrduPoint) کی رپورٹس پر مبنی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پاکپتن حادثہ کہاں پیش آیا؟
دیپالپور روڈ پر 17 ایس پی کے قریب، ضلع پاکپتن، پنجاب۔
حادثے میں کتنے افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے؟
11 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوئے۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
ملتان سے جانے والی مسافر بس آلوؤں سے لدے ٹریلر سے ٹکرا کر الٹ گئی۔
زخمیوں کو کہاں منتقل کیا گیا؟
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال پاکپتن، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں کون شامل ہیں؟
پیرا فورس اور پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان عمیر اقبال کے مطابق، جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کی شناخت علی حسنین (Ali Hasnain) (پٹرولنگ پولیس) اور زاہد امام (Zahid Imam) (پیرا فورس) کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے علاوہ گاؤں ٹبہ نین وال (پوسٹ آفس کھڈیاں خاص، تحصیل و ضلع قصور) کے محمد اکرام (Muhammad Ikram) بھی جاں بحق ہوئے، جو وکالت کا آخری پرچہ دے کر واپس آ رہے تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ جمعہ، 6 نومبر کو صبح 10 بجے اپنے آبائی گاؤں ٹبہ نین وال میں ادا کی جائے گی۔